بابری مسجد کے بارے کچھ اہم تاریخی حقائق

by Nadia Riaz on November 21, 2019 | Images Source Social Media

بابری-مسجد-کے-بارے-کچھ-اہم-تاریخی-حقائق

بابری مسجد کانام مغل سطلنت کے بانی ظہیرالدین بابر کے نام رکھا گیا ۔ ظہیرالدین محمد بابر 1483 کو پیدا ہوئے اور 1526 کو پانی پت کے مقام پر سلطان ابراہیم لودھی کے ساتھ میدان میں لڑائی کے دوران سلطان ابراہیم لودھی مارا گیا اور اس کے بعد ظہیرالدین بابر دہلی کا سلطان یعنی ہندوستان کا مغل حاکم بن گیا
بابری مسجد کی بنیاد 1527 ایودھیا میں رکھی گئی اور تقریبا تین سو سال تک اس مسجد میں اللہ اکبر کی صدائیں گونجتی رہیں ۔ ایودھیا میں پہلی بار مذہبی فسادات 1853 میں شروع ہوئے پھر اس کے بعد جنگ آزادی شروع ہو گئی 1857 کی جنگ آزادی مسلمانوں اور ہندووں نے مل کر لڑی لیکن اس میں بھی ہندو مسلمانوں کو دھوکہ دے گئے اور آخر میں انگریزوں سے جا ملے
تقسیم ِہند کے وقت باہمی رضامندی سے یہ طے پایاکہ جو عبادت گاہیں مسلمانو ں کے پا س ہیںوہ اُنھیں کے پا س رہیں گی اور جو مندر ہندووں کے پاس ہیں وہ انہی کی عبادت گاہ رہے گی
مگر تقسیمِ ہند کے فوراََ بعد ہندووں نے اپنا مکروہ چہرہ دکھادیا اور ہندووں نے بابری مسجد پر وبضہ کرنے کی خاطر مسجد میں اپنے مورتیاں اور بُت رکھنے شروع کر دیے اور ہندووں کی اِس حرکت کے بعد بھارتی حکومت نے بابری مسجد کی متنازع جگہ قرای دے کر مسلمانوںکی سرپرستی کی رد کر دیا
اُس کے بعد بھارتی حکومت نے 2019 میں اس متنازع جگہ کا فیصلہ ہندووں کے حق میں سنادیا اور یہ فیصلہ 9نومبر کو بھارتی سپر یم کورٹ نے سنایا۔یہ دن پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم ترین دن ہے۔یہ دن ہمارے مفکر اور شاعر علامہ اقبال کا یوم پیدائش ہے اور اسی دن بھارتی سپریم کورٹ نے مسلمانوں کے خلاف یہ فیصلہ سنا کرعلامہ اقبال کے دوقامی نظرے کو پھر سے زندہ کر دیا اور یہ باور کروایا کہ مسلمان ایک الگ قوم کی حیثیت رکھتے ہیںاور بھارت میں اقلیت کے طور پر ہیں۔
بھارت میں اقلیتوں کیلئے زمین تنگ کی جا رہی ہے اس فیصلے سے نا صرف مسلمانوں کو مایوسی ہوئی بلکہ سکھوں کیلئے کھولا جانے والا گرودوارہ بھی بند ہو سکتا تھا ۔ مگر یہ پاکستان کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ مسلم ملک ہوتے ہوئے بھی بھارت کے مسجد پر قبضے کے فیصلے کے باوجود بھارتی اقلیت کیلئے راستہ کھولا ۔یہی وجہ ہے سکھ مذہب کے ماننے والے عمران خان کے گیت گاتے نہیں تھکتے ۔
ظاہری طور پر ہندووں کے حق میں فیصلہ ہوا مگر وقت ثابت کرے گا کہ یہ فیصلہ مسلمانوں یا مسجد کے خلاف نہیں بلکہ خود بھارت کے خلاف ہوا ۔ پاکستان کے راستہ کھولنے اور بھارت کے روڑے اٹکانے پر بھارت میں خالصتان کی تحریک نے زور پکڑناہی تھا اور اب مسلمانوں سے چھیڑچھاڑ کر کے بھارت نے اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے ۔ اور یہ کلہاڑی بھارت کے پاوں پر کم اور اقلیتوں کے جذبات پر زیادہ لگی ہے ، ہندو سورماوں کو ردعمل کیلئے تیار رہنا ہو گا ۔



Card image

Nadia Riaz



Comments

Leave a Reply